پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نارملائزیشن کمیٹی کا اہم اجلاس
پاکستان فٹبال فیڈریشن نے ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور فیفا کے اعلی عہدیداران کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی ہے. جس میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے آئین کو فیفا کے نافذ کردہ اصولوں کے مطابق دوبارہ ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا ہے. اچانک اس اجلاس کو بلانے کی وجہ واضح ہے کہ ایشین کپ کوالیفائرز اور مستقبل میں فیفاکےزیر اہتمام بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے پابندیوں سے نجات لازم ہے
یاد رہے پاکستان فٹبال فیڈریشن پرگزشتہ آٹھ سال کے دوران فیفا کی جانب سے لگنے والی یہ تیسری پابندی ہے.اور یہ پابندی فیفا کی جانب سے الیکٹورل ریفارمز کو مسترد کرنے کے نتیجے میں عائد کی گئی ہے. کیوں کہ اگر صدر کو منتخب کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہو سکا تو پھر ظاہر ہے انہیں ریفارمز نہیں کہا جا سکتا اور معاملات کیوں کہ جوں کے توں ہیں اس لئےیہ کہنا درست ہے کہ یہ پابندی مقررہ وقت میں پی ایف ایف کے صدر کا انتخاب نہ کیے جانے کی وجہ سے عائد کی گئی ہے. فروری کے آغاز میں ہونے والے اجلاس کے بعد کل جو اجلاس بلایا گیا تھا اس میں ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور فیفا کے علاقائی نمائندگان نے شرکت کی. ایشئن فٹبال فیڈریشن سے اس حیثیت سے منسلک کسی اعلی عہدیدار کی یہ پہلی آمد ہے.اس سے پہلے وینیو سلیکشن کے لئے ڈیلیگیشنز آتے رہے ہیں. گزشتہ چار مہینوں کے دوران اس مسئلے کے حل کے لئے کی جانے والی یہ چوتھی میٹنگ ہے
19th November 2024
24th January 2025
27 February 2025
اس سے قبل ایکٹنگ جنرل سیکرٹری پاکستان فٹبال فیڈریشن شاہد کھوکھر صاحب نے ایک اخبار کے زریعے بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا ایشئن فٹبال کنفیڈریشن کے سینئر آفیشلز کا پاکستان آنا خوش آئند ہے اس کامطلب یہ لیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کو بطور حریف ایشئن فٹبال فریٹرنٹی میں ایک اہم ممبرخیال کرتے ہیں
اب جو بات اس تازہ فسانے میں کہیں نہیں ہے وہ یہ ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی کے چئیر مین ہارون ملک صاحب نےسعود ہاشمی صاحب کو چئیرمین شپ کی زمہ داری سپرد کر دی ہے ہارون ملک کا کانٹریکٹ پی ایف ایف کے ساتھ ختم ہو چکا ہے.جو پروسیجرل مسٹیک ہے اس معاملے میں وہ یہ ہے کہ پی ایف ایف کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز اور ان کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے کوئی خبر شائع نہیں کی گئی.پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لئے کام کرنے والی پرائیویٹ ویب سائٹس ہیں جہاں یہ معلومات شائع کی گئی مگر اس کی صداقت پی ایف ایف کی تصدیق سے مشروط رہی ہے. ہارون ملک صاحب جن کا کانٹریکٹ مبینہ طور پر 15 فروری تک بڑھا دیا گیا تھا ، پہلے دسمبر 15 تک انہوں نے نئے صدر کو زمہ داریاں سونپ دینے کا اعلان کیا تھا. آپٹیملی انہیں یہ اعلان پاکستان میں فٹبال کمیونٹی کے لئے اپنے تمام زرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے کرنا چاہئے تھا
کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ فیفا ہمیں نیشنل لیول پر اس معاملے پر
وضاحت سے باز رکھنے کا اختیار نہیں رکھتا اور پاکستان فٹبال فیڈریشن پر کہیں نہ کہیں
یہ اخلاقی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اہم معاملات کے بارے میں آگاہ کریں. خیر نارملائزیشن کمیٹی کے دیگر اعلی عہدیداران اپنے اپنے
عہدوں پر اسی طرح فائز ہیں
مختلف اخبارات میں اس معاملے کو لے کر اس سے جڑی خبروں کو لے کر ابہام بھی محسوس کیے جا رہے ہیں. زرائع کا کہنا ہے کہ پابندی ایشین کپ کوالیفائرمیں پاکستان
کی سیریہ کے خلاف میچ سے پہلے ختم کر دی جانے کی توقع ہے.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں